Ramzan-kareem

ماہ رمضان کو گزارنے کا طریقہ


ماہ رمضان  کا آغازہوچکا ہے۔ خوش نصیب  ہے وہ جسے ایک بار پھر رمضان المبارک کی مبارک ساعتیں میسر آئیں اور انتہائی بد نصیب ہوگا وہ جسے یہ ماہ مبارک ملے اور وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔
رمضان المبارک سے بھر پور فائدہ اٹھا نے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے سے ہی اس کی تیاری کی جائے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے بعد سب سے زیادہ روز ے ماہ شعبان میں رکھا کرتے تھے، اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ شعبان کا مہینہ جو رمضان المبارک سے بالکل متصل ہے تیاری کے لئے موزوں مہینہ ہے۔ آئیے ہم سب مل کر سوچیں کہ رمضان المبارک کی تیاری کیسے کی جائے۔ دین اسلام میں اس ماہ مقدس کو بہت زیادہ فضیلت اور اہمیت حاصل ہے اور اس مہینے کا مقصد مسلمانوں میں صبروتحمل اور جذبہ ایثار و محبت کو عملی طور پر فروغ دینا ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ رمضان المبارک کی ہر رات میں ایک منادی (فرشتہ) پکارتا ہے کہ اے خیر کی تلاش کرنے والے متوجہ ہو اور آگے بڑھ اور اے برائی کے طلب گار بس کر (بازرہ) اور آنکھیں کھول ۔ منادی کہتا ہے کہ کوئی مغفرت کا چاہنے والا ہے کہ اس کی مغفرت کی جائے، کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ اس کی توبہ قبول کی جائے، کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے اور کوئی مانگنے والا ہے کہ اس کا سوال پورا کیا جائے۔رمضان المبارک وہ مقدس مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید نازل فرمائی جو قیامت تک آنے والے لوگوں کیلئے رشد و ہدایت کا ذریعہ ہے۔ حضرت سلمانؓ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے شعبان کی آخری تاریخ میں ہم لوگوں کو وعظ فرمایا کہ تمہارے اوپر ایک مہینہ آ رہا ہے جو بہت بڑا اور مبارک مہینہ ہے، اس میں ایک رات (شبِ قدر) ہے جو ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے۔
یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ اللہ کی رحمت ہے اور درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ آگ (جہنم) سے آزادی ہے، جو شخص اس مہینے میں اپنے غلام (و خادم) کے بوجھ کو ہلکا کر دے اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرماتے ہیں اور آگ سے آزادی فرماتے ہیں اور چار چیزوں کی اس میں کثرت رکھا کرو جن میں سے دو چیزیں اللہ کی رضا کے واسطے اور دو چیزیں ایسی نہیں جن سے تمہیں چارہ کار نہیں، پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری دو چیزیں یہ ہیں کہ جنت کی طلب کرو اور جہنم سے پناہ مانگو۔ جو شخص کسی روزہ دار کو پانی پلائے حق تعالیٰ (قیامت کے دن) میرے حوض سے اس کو ایسا پانی پلائیں گے کہ جس کے بعد جنت میں داخل ہونے تک پیاس نہیں لگے گی۔ حضورؐ کا ارشاد ہے کہ جو شخص بغیر کسی شرعی عذر کے ایک دن بھی رمضان کا روزہ چھوڑ دے تو رمضان کے علاوہ وہ پوری زندگی بھی روزے رکھے وہ اس کا بدل نہیں ہو سکتے۔

مسنون دعائیں یاد کرنا

ماہ رمضان کی کچھ تو مخصوص دعا ئیں ہیں جیسے سحری و افطار کی دعائیں اور قیام لیل کی دعا، پھر ان کے علاوہ بھی بہت ساری مسنون دعائیں اور اذکار یاد کرلیں۔ رمضان کی راتوں میں جب سجدے میں گر کر یہ مسنون دعائیں رب کے حضور پیش کریں گے۔ جب دن کے وقت سوکھے ہونٹوں اور خشک زبان کو ذکر الہی سے تر کریں گے تو رب کائنات کتنا خوش ہوگا۔ مسنون دعاؤں کی خوبی یہ ہے کہ وہ بہت چھوٹی چھوٹی ہوتی ہیں اور آسانی سے یاد ہو جاتی ہیں۔ پھر کوتا ہی کیوں ہو؟ روزانہ ایک دعا بھی یاد کریں تو ماہ رمضان میں ہمیں بیسیوں دعائیں یاد ہوچکی ہوں گی۔ پھر کتنا اچھا لگے گا ماہ رمضان۔