pink-doll-innocent-child

گلابی گڑیا اور معصوم بچہ


انکل !!!! وہ کونے پر رکھی گلابی گڑیاچاہئے مجھے، سو روپے کی ہے نا ؟
Pink-Doll

یہ الفاظ سن کر میں نے پیچھے مڑ کر اسے دیکھا۔ایک معصوم سا بچہ مٹھی میں کچھ دبائے میرے دائیں طرف کھڑا تھا – لگ بھگ سات سال عمر ہوگی…..پرانے سے قمیض شلوار میں ملبوس جن پرگریس اور تیل کے دھبے بڑے واضح نظر آ رہے تھے- چہرے پر بلا کی معصومیت اور آنکھوں سے ذہانت عیاں تھی۔

' دیکھ نہیں رہا تو گاہک کھڑے ہیں اور یہ گڑیا اب مہنگی ہوگئی ہے۔ ڈیڑھ سو روپےہیں تو نکال ورنہ چل دفع ہوجا یہاں سے… صبح صبح نحوست پھیلا رہا ہے دکان میں۔

سیلزمین نے ٹیڑھا سا منہ بنا کر جواب کیا دیا……بچے کا چہرہ ہی مرجھا گیا ……. ایسا لگا جیسے اسے شاک لگ گیا ہو … وہ بوجھل قدموں سے پیچھے کی طرف سرکنے لگا ۔

' جی میڈم اور کیا دے دوں بےبی کی سالگرہ کے لئے ؟ یہ باربی ڈول ذرا دیکھئے …. صرف دو ہزار کی ہے اور اس سے اچھی پوری مارکیٹ میں نہیں ملے گی – '

سیلزمین مجھ سے مخاطب تھا لیکن میری نظریں اس بچے پر جیسے ٹک سی گئی تھیں…….

اس کے رخساروں پر خاموشی سے بہتے دو آنسوؤں کی لکیروں نے مجھےجکڑ سا لیا تھا۔

' اچھا چلو یہ باربی ڈول بھی پیک کر دو اور بل بنا دو' …. میں سیلز مین کو کہتی ہوئی مڑی اور کونے میں کھڑے بچے کی طرف بڑھ گئی۔

کیا نام ہے تمہارا بیٹا؟

' بی بی جی ….یاسین …… محلے والے سنی کہہ کر بلاتے ہیں۔ '

' تم رو کیوں رہے ہو؟ گڑیا سے تو لڑکیاں کھیلتی ہیں …… چلو میں تمہیں بیٹ بال دلا دیتی ہوں…. شاباش اب یہ آنسو پونچھ لو….. '

میرا یہ جملہ سن کر اس نے لمحہ بھر کو سر اٹھایا اور پھر فرش پر نظریں جمائے مجھ سے کہنے لگا ……

' بی بی جی ، یہ گڑیا میری چھوٹی بہن کو بہت پسند تھی …..اسی کے لئے لینے آیا ہوں …. جب ہم یہاں سے گزرتے تھے تو وہ مجھ سے کہتی تھی ……بھیا جب تم بڑے ہوجاؤ گے….. پیسے کماؤ گے تو مجھے یہ گڑیا دلا دو گےنا… '

مجھے اسکی معصوم زبان سے 'چھوٹی بہن ' نا جانے کیوں بہت اچھا لگا ….. اس کے لہجے میں اپنی بہن کے لئے محبت تھی کہ امڈی چلی آ رہی تھی –

' اچھا تو یہ بات ہے …تم اپنی چھوٹی بہن کے لئے وہ گلابی گڑیا خریدنے آئے ہو….مگر پچاس روپے تو اب بھی کم ہیں تمھارے پاس….. یہ سو روپے تم نے خود جمع کئے ہیں؟ '

' نہیں بی بی جی ، میرے پاس بھلا پیسے کہاں سے آیئنگے….. گیراج والا استاد میری پوری دیہاڑی ابا کے حوالے کردیتا ہے۔ میرے ہاتھ میں پیسے تھوڑا ہی دیتا ہے-

بچہ اب مجھ سے کھل کر گفتگو کررہا تھا ۔ ایک سیکنڈ کو رک کر اس نے آستین سے ناک صاف کی اور گویا ہوا۔

' اصل میں آج بڑے صاحب اپنی گاڑی لینے گیراج پر آئے تھے ……. ان کی گاڑی پر پالش میں ہی کرتا ہوں …… گاڑی دیکھ کر انہوں نے مجھے بلایا اور کہنے لگے……

' سنی آج تو نے دل خوش کردیا بچے ، ایسی چمکائی ہے میری پراڈو میں شکل تک دکھائی دے رہی ہے ، بھئی واہ ، یہ لے سو روپے تیرا انعام اور سن استاد کو نہیں بتانا ……… ورنہ تیری دیہاڑی کے ساتھ یہ بخشش بھی تیرے نشئی باپ کے حوالے کر دے گا….. '

' آج صاحب کا موڈ شاید بہت اچھا تھا ……اور میں نے بھی چپ چاپ نوٹ جیب میں ڈال لیا – '

مجھےاس کے کپڑے دیکھ کر اندازہ تو ہو گیا تھا پر نہ جانے اس کی زبانی سن کردکھ ہوا کہ اتنا چھوٹا سا بچہ اسکول جانے کے بجائے گیراج پر کام کرتا ہے۔

' پر بی بی جی ابھی پچھلے ہفتے ہی اس گڑیا کے دام پوچھ کر گیا تھا ، دکان والے انکل نے سو روپے بتائے تھے ….. پر آج کہتے ہیں ڈیڑھ سو روپے نکالو … آپ نے بھی سنا تھا نا بی بی جی ….. ڈیڑھ سو ہی بولا تھا انکل نے

شاید اس نے مجھ سے سوال کیا تھا …. ' ہاں بیٹا…. اس گڑیا کے دام انکل نے ڈیڑھ سو ہی بتائے تھے ' …. میں نے اس کی بات کی تصدیق کردی –

' اوہو!!!! تو اب میری سمجھ میں آیا ….. تو تم پچاس روپے کے لئے رو رہے ہو ….. چلو آنسو پوچھ لو اور یہ لو پچاس روپے…….. میں نے پرس میں ہاتھ ڈالا اور پچاس کا نوٹ اسکے ہاتھ میں تھما دیا….. '

میں نے بھی پچاس روپے دیکر اپنی دانست میں حاتم طائی کی قبر پر لات دے ماری تھی –

اچھا یہ تو بتاؤ تمہاری چھوٹی بہن کہاں ہے ؟ وہ کیوں نہیں آئی اپنی گڑیا لینے ؟؟؟

میں نے تجسس کے مارے فورا ہی اگلا سوال داغ دیا –

' وہ کیسے آ سکتی ہے…. وہ تو اللہ میاں کے پاس رہنے چلی گئی ہے !!!!! ….'

' اور اماں کہتی ہےجو اللہ میاں کے پاس چلا جاتا ہے وہ کبھی واپس نہیں آتا – اللہ میاں اتنا پیار جو کرتے ہیں …. خیال رکھتے ہیں …. شائد اسی لئے…… '

کیا !!!! میری مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی …. مجھے ایسا لگا جیسے اس بچےنے بھرے بازار میں مجھے طمانچہ رسید کردیا ہو

' ہاں بی بی جی ….. اصل میں اسکو بخار ہوگیا تھا… بہت تیز بخار …. میری اماں آپ جیسی ایک بی بی جی کے گھر کام کرتی ہے ….اس نے کچھ پیسے ادھار لیکر ابا کو دئے تھے بہن کی دوا لانے…… ساری رات ہم انتظار کرتے رہے………پر ابا دوا لیکر نہیں آیا…. '

مجھے تو نیند آ گئی تھی …. اماں کے زور زور سے رونے کی آواز سے آنکھ کھلی تو دیکھا پڑوس والے غفورچاچا اور سلمیٰ چاچی اماں کے ساتھ ہی کھڑے تھے اور گڑیا سکون سے سو رہی تھی –

مجھے اماں سینے سے لگا کرزور زور سے چیخنے لگی ……. بیٹا تیری گڑیا چلی گئی ….. ہمیں چھوڑ کر اللہ میاں کے پاس چلی گئی بیٹا

غفورچاچا بھی بہت غصے میں تھے….. کہہ رہے تھے آنے دے آج تیرے باپ کو…… اس کمینے کو گھر میں نہیں گھسنے دوں گا……… معصوم بچی کو اپنے نشے کی بھینٹ چڑھا دیا سالے نے۔

مجھے اپنی آواز حلق میں پھنستی ہوئی محسوس ہورہی تھی…. میری سمجھ میں نہیں آیا میں اس سے اب کیا کہوں ۔

' بیٹا تو یہ گڑیا اب کس کو دو گے ؟؟؟؟

' اپنی اماں کو دوں گا بی بی جی …… اسی کے ہاتھ اپنی بہنکو  بھجواؤں گا اور کیا ……'

' میرا ابا کہتا ہے تیری ماں بھی اب اللہ میاں کے پاس جانے والی ہے…..سارا دن خون تھوکتی رہتی ہے، سدا کی بیمار جو ہے ۔ ھڈ حرام سے کوئی کام بھی نہیں ہوتا – اس سے اچھی تو وہ سکینہ ہے…… پورا دن گھروں میں کام کرتی ہے ….. بیوہ ہے اور پورے آٹھ ہزارمہینے کا کماتی ہے….. میرے نشے کا خرچہ تو اٹھا ہی لے گی….اور روٹی کا خرچہ تیری دیہاڑی سے پورا ہوجائے گا ۔ '

' بی بی جی….. میں اب چلتا ہوں …. میری چھوٹی گڑیا کا انتظار کر رہی ہوگی …. کہیں دیر نہ ہو جائے اور اماں بھی اللہ میاں کے پاس چلی جائے… '

میں دم سادھے اسکی کہانی سن رہی تھی ….اسکے الفاظ بم بن کر میری سماعت پر گر رہے تھے۔
' مرے گھر پہنچنے سے پہلے ہی اگر اماں بھی چلی گئی تو یہ گڑیا میری چھوٹی بہن کو کون پہنچائے گا ؟؟

آپ بہت اچھی ہیں بی بی جی …… اللہ آپ کو بہت دے گا ۔

یہ الفاظ ادا کرکے وہ کاؤنٹر کی طرف بڑھ گیا …. اور اسکی آواز سناٹے میں گونجنے لگی ۔

' انکل …..!!! دیکھو پورے ڈیڑھ سو روپے ہیں اب میرے پاس ….. یہ گلابی گڑیا جلدی سے دے دو …..اور ہاں ایک اچھے سے تھیلے میں ڈال کر دینا … بہت دور بھیجنا ہے اسے ….. جلدی کرو انکل…. 😰 😢 😥

کہیں اور دیر نہ ہوجائے😰 😢 😥


جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.