McDonald's-secret-development

میکڈونلڈ کی ترقی کا راز


وہ بہت غریب سا آدمی تھا کام کی تلاش میں اکثر شہر کے دفتروں والے علاقے میں پھرتا رہتا تھا وہ دیکھتا تھا کہ دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین دن کے اوقات میں کھانا کھانے کے وقفے کے دوران جلدی جلدی دفاتر سےنکلتے تھے اپنے ٹفن باکس کھولتے کسی ریسٹورنٹ کسی کھلی جگہ پر بیٹھ کر کھانا کھاتے اور پھر واپس اپنی اونچی عمارتوں کے دفاتر کی طرف دوڑتے چلے جاتے وہ ان سینکڑوں ،ہزاروں ٹفن برداروں کو دیکھتا تھا ۔

ایک دن اسے ایک بات سوجی اس نے اپنے گھر پر بن کباب بنائے اور بن کباب بھی کیا بس ایک بن لیا اس کو کاٹ کر اس کے اندر گوشت کا ٹکڑا رکھا تھوڑی سی چٹنی اور مصالہ ڈالا اسے گرم کیا اور اپنی پرانی سی سائیکل پر رکھ کر دن کے کھانے کے وقفے میں دفاتر کے باہر آ کر کھٹرا ہو گیا اس کے دل میں بھی خدشات تھے ،ناکامی کا خوف تھا نہ جانے کوئی اس کے کھانے کو پسند کرے گا یا نہیں ؟کہیں اس غریبی میں اور آٹا نہ گیلا ہوجائے اور میرے پاس جو تھوڑے بہت پیسے ہیں وہ بھی نہ چلے جائیں؟۔

مگر اسےبہت حیرت اور خوشی ہوئی ہے کہ دفاتر کے ملازمت پیشہ لوگوں نے اس سے برگر خرید کر کھائے اور اس سہولت کی فراہمی پر خوش بھی ہوئے اور پوچھا بھائی تم کل بھی آو گے ؟ یہ ہمارا تو کام آسان ہوگیا روز ٹفن اٹھا کر بھاگنا پڑتا تھا۔

اب وہ روز برگر بناکر لاتا اور اس کے برگر ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوجاتے وہ مسلسل سوچتا رہتا کہ ان کو مزید مزیدار اچھا اور لوگوں کی ضرورت کے مطابق بنایا جائے اس کاکام بڑھتا پھیلتا اور پھولتا چلا گیا پھر اس نے ایک دکان بنا لی پھر دوسری ،تیسری اور چوتھی دکان تک پہنچا اور آج اس کی اولاد برگر کی سب سے بڑی چین کی مالک ہے۔

اور دنیا اسے”میکڈونلڈ “کے نام سے جانتی ہےآپ کے خیا ل میں اس شخص نے کیا کیا تھا؟؟؟۔
اس نے ایک نیڈ گیپ (Need Gap)تلاش کیا -اس نیڈ گیپ کے مطابق چیز تیار کی
اس کے معیار کا خیال رکھا، اسے ٹھیک جگہ لے کر پہنچا۔
اس میں مسلسل بہتری کے آئیڈیاز سوچتا رہا اپنا رویہ دوستانہ رکھا، ہمت ہارے بغیر مسلسل کوشش کرتا رہا اور بلآخر وہ کامیاب ہوگیا۔

اس نے اپناہدف حاصل کرلیا ،پھر آخر یہ کیوں ضروری ہے کہ ہر شخص اپنا پہیہ دوبارہ ایجاد کرنے کی کوشش کرے؟ جن بھی لوگوں نے کوئی کامیاب کام کرنا ہے وہ اس شخص یا اس جیسے دوسرے لوگوں سے ہی کیوں نہ سیکھ لیں؟کیا خیال ہے؟