Mother

اے ماں ! تیری عظمت کو سلام


ماں ہی وہ ہستی ہے جس کو رب ذوالجلال نے تخلیق کا اعجاز عطا کرکے اپنی صفت سے بہرہ مند فرمایا۔ اس کا وجود محبت کا وہ بیکراں سمندر ہے کہ جس کی وسعت کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ ایک ایسا سائبان عافیت جس کی چھاؤں میں کوئی دکھ پریشانی ہمیں چھو نہیں سکتی۔ دنیا میں جتنے بھی رشتے ہوں اور ان رشتوں میں جتنی بھی محبت ہو، وہ اپنی محبت کی قیمت مانگتے ہیں، مگر ماں کا رشتہ دنیا میں واحد ایک ایسا رشتہ ہے جو صرف آپ کو کچھ دیتا ہی ہے اور اس کے بدلے میں آپ سے کچھ نہیں مانگتا۔
حدیث میں آتا ہے: "ماں کے قدموں تلے جنت ہے"

یہ دنیا کا سب سے پرخلوص اور چاہنے والا رشتہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی وفات ہوگئی اور آپ علیہ السلام اﷲ تعالیٰ سے کلام کرنے ’’کوہ طور‘‘ پر چڑھے تو اﷲ تعالی نے فرمایا: ’’اے موسیٰ اب تم سنبھل کر آنا تمہاری ماں کا انتقال ہوگیا ہے، جب تم میرے پاس آتے تھے تو تمہاری ماں سجدے میں جاکر تمہارے لیے دعا کیا کرتی تھی۔‘‘ اس سے ثابت ہوا کہ ماں وہ عظیم ہستی ہے جس کی دعا ؤں کی ضرورت صرف ہم جیسے گنہگاروں کو ہی نہیں بلکہ انبیاء اور اولیا کو بھی ہوتی ہے۔
شیخ سعدی فرماتے ہیں : "محبت کی ترجمانی کرنے والی کوئی چیز ہے تو وہ پیاری ماں ہے۔"
حکیم لقمان نے فرمایا : "ماں کا پیار ایسا ہے جوکسی کے سیکھنے اور بتانے کا نہیں۔"
مولانا الطاف حسین حالی نے لکھا ہے : " ماں کی محبت حقیقت کی آئینہ دار ہے۔"
شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کہتے ہیں " "سخت سے سخت دل کو ماں کی آنکھوں سے موم کیا جاسکتا ہے۔"
انگریزی کا سب سے بڑا ادیب شیکسپئر بھی یہ کہے بغیر نہ رہ سکا کہ بچے کے لیے سب سے اچھی جگہ ماں کا دل ہے خواہ بچے کی عمر کتنی ہی ہو۔
یہ حقیقت ہے کہ ماں، جنت کو پانے کا ایک آسان راستہ ہے، جس کا احساس انسان کی آخری سانس تک چلتا رہتا ہے۔ ماں ایک پھول ہے جس کی مہک کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ایک سمندر ہے جس کا پانی اپنی سطح سے بڑھ تو سکتا ہے مگر کبھی کم نہیں ہوسکتا۔ ایک ایسی دوست جو کبھی بےوفا نہیں ہوتی۔ ایک ایسا وعدہ ہے جو کبھی ٹوٹتا نہیں۔ ایک ایسا خواب ہے جو تعبیر بن کر ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتا ہے۔ ایک ایسی محبت ہے جو کبھی کم نہیں ہوتی بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس محبت میں بڑھوتری ہی ہوتی رہتی ہے۔ ایک ایسی پرچھائی ہے جو ہر مصیبت سے ہمیں بچانے کے لیے ہمارے ساتھ رہتی ہے۔ ایک ایسی محافظ ہے جو ہمیں ہر ٹھوکر لگنے سے بچاتی ہے۔ ایک ایسی دعا ہے جو ہر کسی کے لب پر ہر وقت رہتی ہے۔ دنیا میں ہر انسان کا وجود اسی عظیم رشتے کا احسان ہے، ہم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ اپنی ماں کو اس کی زندگی میں ڈھیر ساری خوشیاں دیں، جس طرح اس نے ہمیں ہمیشہ ڈھیر ساری خوشیاں دی ہیں۔ اگر کسی کی ماں اس دنیا سے ہمیشہ کے سفر پر روانہ ہوچکی ہے تو وہ ان کے لیے صدقہ جاریہ بنے۔

اے ماں تجھے سلام
تو رشتہءِ دوام ہے اے ماں تجھے سلام
یہ دل تمہارے نام ہے اے ماں تجھے سلام

دنیا میں سب حوالوں سے تو معتبر ہوئی
اونچا ترا مقام ہے اے ماں تجھے سلام

تیری محبتوں کا کہاں دین دے سکوں
میرا تو صبح و شام ہے اے ماں تجھے سلام

تیرے بغیر دل کو کہیں بھی سکوں نہیں
توں چاہتوں کا جام ہے اے ماں تجھے سلام

کچھ کہوں تو مکرر یہی کہوں
اے ماں تجھے سلام ہے ،
اے ماں تجھے سلام