Nach-na-jany-Agan-tehra

ناچ نہ جانے آ نگن ٹیڑھا


نتھو ایک خانہ بدوش قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔اس کے ماں باپ دوسرے خانہ بدوش قبیلے سے اس کی دلہن بیاہ کرلائے تھے۔ ان کادستور تھا کہ وہ دلہن کے بدلے جتنا پیسہ اس کے ماں باپ کواداکرتے دلہن کواتنا پیسہ کماکر سسرال والوں کوواپس کرنا ہوتا۔ نتھوکی دلہن کامنی کوسسرال آئے دس بارہ دن ہوگئے توساس نے اس سے کہا بس ری چھوری بہت ہوچکا دلہناپا،آج سے میرے ساتھ دھندے پرچلا کر۔
حکم کی دیرتھی کہ دلہن تیارہوگئی اور چھماچھم کرتی ساس کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔ان لوگوں کا پیشہ تھا کہ گلی محلوں میں ناچ گانا کرکے بھیک مانگتے تھے۔یہ دونوں جب قریب کی آبادی کے ایک محلے میں پہنچی توساس نے دفلی کی تھاپ پرزور سے ہانک لگائی۔ دف پرگھنگھروں کی آواز سن کربچے جمع ہوگئے۔ عورتیں دروازوں پر آکر جھانکنے لگیں۔ نئی نویلی دلہن کولال رنگ کے گھاگرے اور چولی پرشیشوں کی کڑھائی والا چم چم کرتا دوپٹہ اوڑھے دیکھ کرایک گھر کی عورتوں نے اندربلالیا کہ اس کا ناچ دیکھیں گی۔
کامنی کی ساس نے دف بجانا شروع کی اوردف کی تھاپ پرکامنی ناچنے لگی مگر ساس کواس کاناچ پسند نہ آیا۔اس نے گاہکوں کے سامنے تواسے نہ ٹوکا مگرگھر آ کر اس کے پیچھے پڑ گئی۔
اری اے چھوری!تجھے تو ناچنا ہی نہیں آتا،کون دیکھے گا تیرا یہ ناچنا؟ لڑکی بھی چلاک تھی فوراََبولی۔
لوماں جی! میں تواچھا بھلا ناچے ہوں! ویسے ہم لوگ ناچتے ہی کھلے میدانوں میں ہیں، پرلوگوں کا آ نگن ٹیڑھا تھا وہاں مجھ سے ٹھیک سے پیرنہ اُٹھا!
دلہن کی نندنے زور سے قہقہہ لگایا اور بولی’لویہ بھی اچھی رہی یعنی خود کونا چنا نہیں آتا اور آ نگن کو ٹیڑھا  کہہ رہی ہے۔
جب کسی سے کوئی کام درست طریقے سے نہ ہو اور وہ کوئی عذر یا بہانہ کسی اور پر رکھے توجھٹ یہی فقرہ زبان پر آجاتا ہے کہ ناج نہ جانے آ نگن ٹیڑھا


جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.