forgetting-man-bhulakar-mian-funny-image

بھلکڑ میاں کی بھولنےکی پرانی عادت اور اُس پر پڑنے والی بار بار پٹائی


ایک دفعہ کا ذکر ہے.کسی شہر میں بھائی بھلکڑ میاں رہتا تھا.بھلکڑ کے لیے بات چھوٹی ہو یا بڑی اسے یاد رکھنا انتہائی مشکل کام تھا. بھلکڑ کی ماں نے قریبی گاؤں میں بھلکڑ میاں کی شادی کروائی. بھلکڑ میاں کی بیوی روزانہ نئے نئے کھانے پکا کر اُسے کھلاتی تھی. ایک دن اس کی بیوی اپنے میکے رہںے چلی گئی.اُدھر بھلکڑ میاں کا دل کھچڑی کھانے کو چاہا. اس نے ماں سے کہا مجھے وہ بنا کر دو جو میری دلہن نے بنایا تھا. اماں نے کہا بیٹا! مجھےتو یاد نہیں کیا بنایا تھا. تم ایسا کرو ناک کی سیدھ میں چلتےجاؤ تمھارے سسرال کا گھرآجاۓ گا. اپنی دلہن سے کہنا وہ ضرور کھچڑی بنا دے گی۔
khichri

اور ہاں کھچڑی کہنا نہ بھولنا. چنانچہ بھلکڑ میاں کھچڑی کھچڑی کہتے جانے کے لیے تیار ہوئے. گھر سے نکلتے ہی کھچڑی کی جگہ”کھا چڑی”کہنےلگے. ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ ایک بڑے سے کھیت سے گزر ہوا جہاں دوآ دمی بڑی مشکل سے چڑیوں کواڑا رہے تھے کہ کھیت سے دانہ نہ کھائیں. بھلکڑ میاں کھیت کے پاس سے”کھا چڑی کھا چڑی”کہتےہوئےگزرے۔  دونوں آدمی یہ سمجھےکہ یہ ہمیں چھیڑرہا ہے. دونوں نے مل کر بھلکڑ کی پٹائی کی اورکہا “تم کہو ا ڑ چڑی ا ڑ چڑی”.

farmer-in-field

بھلکڑ یہی کہتے ہوئےآ گے راستے کی طرف نکل پڑا۔  راستے میں دوآ دمی پرندوں کو پکڑنے کے لئے جال بچھا کر بیٹھے تھے.انہوں نے سنا بھلکڑ میاں”اُڑ چڑی اُڑ چڑی” کہتے جا رہے ہیں.انہوں نےمل کر بھلکڑ کی پٹائی کی کہ ہم صبح سےجال بچھائے بیٹھے ہیں.اورتم ایسے کہہ رہےہو.بھلکڑ میاں کہتے، کہوں تو کیا کہوں؟ انہوں نے کہا! تم کہوآ تے جاؤ پھنستے جاؤ.اور پھر یہ  الفاظ دہراتے ہوئے آ گے کی طرف چل پڑا.آگے راستے میں ایک چور چوری کر رہا تھا.تو بھلکڑ میاں “آ تے جاؤ پھنستے جاؤ” ان الفاظ کو بلند کرتے ہوئے جارہا تھا۔ چور نے جب یہ الفاظ سنے تو غصے میں اسکی بہت پٹائی کی اور کہا تم کہو “لے جاؤ دھر دھر آؤ”. تھوڑی دیر بعد کچھ لوگ جنازہ لے کر اس راستے سے گزر رہے تھے اور بھلکڑ میاں یہ الفاظ کہتے جا رہے تھے. یہ سن کر ان لوگوں نے اسے بہت مارا. بھلکڑ میاں نے کہا مجھے بتاؤ پھرمیں کیا کہوں؟. کہتے! تم کہو یہ دن کسی کو نصیب نہ ہو. جب بھلکڑ یہ کہتا جارہا تھا، تو راستے میں ایک جگہ شادی ہورہی تھی.

لوگوں نے بھلکڑ میاں کے جب یہ الفاظ سنے تو  کہا یہ خوشی کا دن ہے اوریہ ایسے کہہ رہا ہے کہ یہ دن کسی کو نصیب نہ ہو تو یہاں بھی بھلکڑ میاں کی بہت پٹائی ہوئی. بھلکڑ میاں بولے کہوں تو کیا کہوں؟. لوگوں نے کہا تم کہو یہ دن سب کو نصیب ہو. چنانچہ بھلکڑ یہی الفاظ یاد کر کے جانے لگا اِتنےمیں اُسکے سسرال کا گھرآ گیا.

 

village-house

بھلکڑ میاں کوبڑی عزت سے اندر بیٹھایا گیا تو آنے کی وجہ دریافت کی؟ بھلکڑ نے ساری روداد سنائی اوریوں بلا آخر بھلکڑ میاں کواتنی پٹائی پڑنے کے بعد کھچڑی کھانےکو مل ہی گئی۔