anicent-time-old-woman

“وہ کیسی عورتیں تھیں “(نظم)


“وہ کیسی عورتیں تھیں ”
____________________

وہ کیسی عورتیں تھیں …
جو گیلی لکڑیوں کو پھونک کر چولہا جلا تی تھیں
جو سل پر سرخ مرچیں پیس کر سالن پکا تی تھیں
صبح سے شام تک مصروف، لیکن مسکراتی تھیں

بھری دوپہر میں سر اپنا ڈھک کر ملنے آتی تھیں
جوپنکھےہاتھ کےجھلتی تھیں اوربس پان کھاتی تھیں
جو دروازے پہ رک کردیر تک رسمیں نبھاتی تھیں

پلنگوں پر نفاست سے دری چادر بچھاتی تھیں
بصد اصرار مہمانوں کو سرہانے بٹھاتی تھیں
اگر گرمی زیا دہ ہو تو روح افزا پلاتی تھیں

جو اپنی بیٹیوں کو سوئیٹر بننا سکھاتی تھیں
سلائی کی مشینوں پر کڑے روزے بتاتی تھیں
بڑی پلیٹوں میں جو افطار کے حصّے بناتی تھیں

جوکلمےکاڑھکرلکڑی کےفریموں میں سجاتی تھیں
دعا ئیں پھونک کر بچوں کو بستر پرسلا تی تھیں
اور اپنی جا نمازیں موڑ کر تکیہ لگاتی تھیں

کوئی سائل جودستک دےاسے کھانا کھلا تی تھیں
پڑوسن مانگ لے کچھ ، باخوشی دیتی دلاتی تھیں
جورشتوں کو برتنے کے کئی نسخے بتاتی تھیں

محلے میں کوئی مر جائے تو آنسو بہا تی تھیں
کوئی بیمار پڑ جائے تو اسکے پاس جاتی تھیں
کوئی تہوار ہو تو خوب مل جل کر مناتی تھیں

وہ کیسی عورتیں تھیں …..

میں جب گھراپنےجاتی ہوں توفرصت کے زمانوں میں
انہیں ہی ڈھونڈتی پھرتی ہوں گلیوں اور مکانوں میں
کسی میلاد میں ، جزدان میں ، تسبیح دا نوں میں
کسی برآمدے کے طاق پر ، باورچی خانوں میں

مگر اپنا زمانہ ساتھ لیکر کھو گئی ہیں وہ
کسی اک قبرمیں ساری کی ساری سو گئی ہیں وہ